لندن کے ایک جج نے اسرائیل کی سابق وزیر خارجہ زپی لیونی کے وارنٹ گرفتاری جاری کیے تھے۔پچھلے سال غزہ پر اسرائیلی جارحیت کے نتیجے میں1400 فلسطینی شہید ہو گئے تھے جس کے بعد انسانی حقوق کی تنظیموں نے اسرائیل کے اعلی حکام کو جنگی جرائم میں ملوث قراردیا تھا اور زپی لیونی اس وقت اسرائیل کی وزیر خارجہ تھیں۔ لیکن اسرائیلی حکومت کے احتجاج کے بعد برطانوی حکومت نے وارنٹ واپس لے لیے۔ مسلمان جماعتوں کی جانب سے برطانوی حکومت پر دہرے معیار کا الزام لگایا گیا ہے اور مسلم جماعتوں نے اس فیصلے پر مایوسی کا اظہار کیا ہے۔ جبکہ برطانوی وزیر خارجہ ڈیوڈ ملی بینڈ کا کہنا ہے کہ قانون میں تبدیلی برطانیہ اور اسرائیل کے درمیان تعلقات کو مستحکم بنانے کے لیے ضروری ہے۔ مبصرین کا کہنا ہے کہ اب امریکہ اور برطانیہ کی پالیسیاں اسرائیل کے حق میں تبدیل کی جاتی ہیں اور ان دونوں ممالک پر در حقیقت اسرائیل کی حکمرانی ہے امریکہ اور برطانیہ کے حکمراں اسرائیلی دھمکیوں کے سامنے بے بس نظر آتے ہیں یا یوں کہا جائے تو بہتر ہوگا کہ امریکہ اور برطانیہ میں اسرائیلی سیاستدانوں کی حکمرانی ہےاور ان دونوں ممالک پر اسرائیل کے حوالے سے اعتماد کرنا بہت بڑی غلطی ہے۔
18 مارچ 2010 - 20:30
News ID: 174420
اسرائیل کی دھمکی کے بعد برطانیہ نے اپنا برسوں پرانا قانون تبدیل کرنے کا فیصلہ کر لیا موجودہ قانون کے تحت جنگی جرائم میں ملوث اسرائیلی شخصیات سمیت کسی بھی ملزم کو برطانیہ آنے پر گرفتار کیا جاسکتا ہے۔